دو روزہ فکری سفر

گزشتہ دو دن نماز، قناعت، یادِ والدہ، غم، محبت اور اللہ پر بھروسے کے بارے میں گہری سوچ میں گزرے۔

ایک اہم سبق یہ تھا کہ نماز کو اول وقت میں ادا کر لینا چاہیے۔ انسان نہیں جانتا کہ دن کے کس لمحے کوئی جذباتی کیفیت، مصروفیت، غم یا یاد اس پر غالب آ جائے۔ اگر نماز پہلے ادا ہو چکی ہو تو دل ایک اضافی بوجھ اور قضا ہونے کی پریشانی سے محفوظ رہتا ہے۔


پیکجز مال کا سفر

آج میں پیکجز مال لاہور گیا۔ بظاہر یہ ایک معمول کی سیر تھی، لیکن حقیقت میں یہ ایک گہرا روحانی اور جذباتی تجربہ بن گئی۔

مال میں چلتے ہوئے میں لوگوں کی آوازیں، ہلکی موسیقی، فوڈ کورٹ کی خوشبو، ٹھنڈی ہوا، روشن ماحول اور زندگی کی رونق محسوس کر رہا تھا۔

اچانک مجھے یاد آیا کہ تقریباً دس سال پہلے میں اپنی والدہ کے ساتھ اسی جگہ آیا تھا۔

اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ میں صرف ایک جگہ کو یاد نہیں کر رہا بلکہ ایک انسان کو یاد کر رہا ہوں۔

میں مال کو نہیں، اپنی والدہ کو دوبارہ محسوس کر رہا تھا۔

میری والدہ اور میرے درمیان ایک غیر معمولی ذہنی اور جذباتی قربت تھی۔ اکثر میں ان کی سوچ سمجھ لیتا تھا اور وہ میری۔

اسی لیے آج مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ وہ اُس وقت کیا سوچ رہی ہوں گی۔


ان کی فکرمندی کی اصل وجہ

مجھے ان کے بچپن اور جوانی کی مشکلات یاد آئیں۔ مالی اور گھریلو مسائل نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔

آج میں سمجھتا ہوں کہ ان کی فکرمندی دولت کی محبت نہیں تھی۔

وہ دراصل اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے تحفظ چاہتی تھیں۔

وہ اکثر والد صاحب سے کلینک، آمدن اور مالی معاملات کے بارے میں پوچھتی تھیں۔ آج میں سمجھتا ہوں کہ یہ لالچ نہیں تھا بلکہ ایک ماں کا وہ خوف تھا جو ماضی کی محرومیوں سے پیدا ہوا تھا۔

میں ہمیشہ انہیں سمجھاتا تھا کہ ہر نسل کو اپنی جدوجہد خود کرنی ہوتی ہے اور اللہ نے ہمیں بہت نعمتیں دی ہیں۔

لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ بعض زخم صرف دلیل سے نہیں بھرتے۔


ایک اہم احساس

آج میں نے محسوس کیا کہ دس سال پہلے ایسی جگہیں مجھے مزید حاصل کرنے کی خواہش دلاتی تھیں۔

مگر آج میں انہی چیزوں کو دیکھ کر قناعت محسوس کر رہا تھا۔

میں خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہا تھا، لیکن اس کا غلام نہیں تھا۔

یہی سوچ مجھے والدہ کی طرف لے گئی۔

میں سوچنے لگا کہ کیا وہ بھی اس سکون تک پہنچ پائی تھیں جس کی میں ان کے لیے دعا کرتا تھا؟


وہ سکون جو صرف اللہ دے سکتا ہے

پھر ایک بڑی حقیقت میرے سامنے آئی۔

شاید میں اپنی والدہ کو وہ مکمل اطمینان دینا چاہتا تھا جو کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو نہیں دے سکتا۔

میں نے ان سے محبت کی۔
میں نے ان کا ساتھ دیا۔
میں نے انہیں تسلی دی۔
میں نے انہیں اللہ پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی۔
میں نے بیماری کے برسوں میں ان کی خدمت کی۔

لیکن دلوں کا مکمل سکون صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔

اگر ان کے دل میں کوئی خوف باقی تھا تو اللہ اسے مکمل امن میں بدل سکتا ہے۔
اگر کوئی بے یقینی باقی تھی تو اللہ اسے مکمل اطمینان میں بدل سکتا ہے۔
اگر کوئی فکر ادھوری رہ گئی تھی تو اللہ اپنی رحمت سے اسے مکمل کر سکتا ہے۔


یادوں کی امانت

مجھے اپنے دادا دادی اور نانا نانی کی وفات کا وقت یاد آیا۔

اس وقت مجھے سکون تھا کیونکہ میرے والدین زندہ تھے اور ان کے پاس اپنے والدین کی بے شمار یادیں محفوظ تھیں۔

اب والدہ کے انتقال کے بعد مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اندر بھی یادوں اور تجربات کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔

کچھ باتیں انہوں نے ہمیں بتائیں۔
کچھ کبھی نہ بتائیں۔
اور کچھ صرف وہ اور اللہ جانتے ہیں۔

یہ احساس شروع میں مجھے تنہا کر دیتا تھا۔

پھر مجھے ایک حقیقت سمجھ آئی۔

کوئی بھی انسان کسی دوسرے انسان کی مکمل کہانی اپنے اندر محفوظ نہیں رکھ سکتا۔

ہر نسل کو صرف ایک حصہ ملتا ہے، اور پھر وہ اسے آگے منتقل کر دیتی ہے۔

مجھے اپنی والدہ کی ہر یاد محفوظ رکھنے کی ضرورت نہیں۔

مجھے صرف وہ امانت سنبھالنی ہے جو میرے حصے میں آئی ہے۔

میں نے ان سے محبت سیکھی۔
میں نے ان سے خاندان کی اہمیت سیکھی۔
میں نے ان سے صبر اور قربانی سیکھی۔
میں نے ان سے ہمت سیکھی۔
میں نے ان سے شفقت سیکھی۔

یہ سب چیزیں آج بھی میرے اندر زندہ ہیں۔


آج کا سب سے جذباتی لمحہ

مال میں چلتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

میں نہیں چاہتا تھا کہ لوگ مجھے دیکھیں۔

پھر مجھے احساس ہوا:

یہ کمزوری کے آنسو نہیں تھے۔

یہ ایک بیٹے کی اپنی ماں سے محبت کے آنسو تھے۔

ان دو دنوں کا حاصل

میں صرف ایک مال میں دوبارہ نہیں گیا تھا۔

میں دراصل یہ دیکھ رہا تھا کہ غم، محبت، یاد، ایمان اور وقت نے مجھے کس طرح بدل دیا ہے۔

وہ سکون جو میں اپنی والدہ کو مکمل طور پر نہیں دے سکا، اللہ انہیں آج کامل صورت میں عطا کر سکتا ہے۔

میرا کام ان کی ہر فکر کو حل کرنا نہیں۔

میرا کام ان سے محبت کرنا، ان کے لیے دعا کرنا، ان کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھنا ہے۔


اے اللہ!

میری والدہ کی مغفرت فرما۔
ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔
ان کے درجات بلند فرما۔
ان کے دل کی ہر باقی رہ جانے والی فکر کو مکمل سکون میں بدل دے۔
اور ہمیں اپنی رحمت میں دوبارہ ملا دے۔

آمین

Comments