20 اپریل 2026 — بحثیت ڈاکڑ، محبت، خاموشی اور ضبط آج کا دن مجھے ایک ڈاکٹر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک بیٹے کے طور پر آزما رہا ہے — ایسے موڑ پر جہاں سب کچھ بدلنے والا ہے۔ جب میں گھر پہنچا تو میں نے اپنی والدہ کو غیر معمولی طور پر ہوش میں پایا۔ ان کا چہرہ سوجا ہوا تھا، اور آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں—ایسی چمک کے ساتھ جیسے آنکھوں میں ٹمٹماتے ستارے ہوں۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور ایک سوال کیا جو میرے دل کو اندر تک مکمل چھلنی کر گیا : “میں ٹھیک ہو جاؤں گی نا؟” اس لمحے میں نے محسوس کیا کہ میرا سارا علم بے بس ہے۔ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب سائنس کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ بعد میں نرس سے معلوم ہوا کہ میرے والد ان کے پاس بیٹھے فون پر لوگوں کو ان کی بیماری کے بارے میں بتا رہے تھے۔ ان کی آواز بھرائی ہوئی تھی، وہ رو رہے تھے—اور میری والدہ یہ سب سن رہی تھیں۔ انہوں نے سب کچھ سمجھ لیا… اور وہ خوفزدہ ہو گئیں۔ اور جیسے یہ کافی نہ تھا، کل ایک اور تکلیف دہ واقعہ پیش آیا۔ میری کزن، ڈاکٹر افراح رحمان، گھر آئیں۔ جہاں انہیں سکون اور حوصلہ دینا چاہیے تھا، وہاں انہوں نے شدید جذباتی ردعمل...